مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غاصب صیہونی فوج نے جنوبی شام میں اپنی فوجی کارروائیوں اور زمینی دراندازی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دمشق کے نواحی علاقوں اور صوبہ قنیطرہ کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
روسیا الیوم کے مطابق، اسرائیلی فوج نے مسلسل دوسرے روز دمشق کے مغربی مضافات میں واقع بیت جن کے اطراف میں موجود علاقوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی۔
میدانی ذرائع کے مطابق بیت جن کے اطراف میں واقع تل باط الوردة کو اسرائیلی توپ خانے سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ علاقے میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں۔
دوسری جانب قنیطرہ کے وسطی دیہی علاقے میں اسرائیلی فوج کی 9 فوجی گاڑیاں بریقة نامی گاؤں میں داخل ہوئیں۔ اسی دوران جنوبی قنیطرہ کے الحانوت گاؤں کے اطراف میں بھی اسرائیلی فوج کی 4 فوجی گاڑیاں دیکھی گئیں۔
اسرائیلی فوجی جنوبی قنیطرہ کے رسم العجرَف گاؤں میں بھی داخل ہوئے اور متعدد گھروں میں گھس کر تلاشی اور چھان بین کی۔
جنوبی شام میں اسرائیلی فوج کی یہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب گزشتہ دنوں صوبہ قنیطرہ، درعا اور دمشق کے مغربی مضافات سمیت جنوبی شام کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی زمینی دراندازی اور فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی فوج کی مقبوضہ جولان کے قریب شام کے سرحدی علاقوں اور غیر فوجی علاقے کے اطراف میں بڑھتی ہوئی نقل و حرکت نے جنوبی شام میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دسمبر 2024 میں بشار اسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام میں پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک کے فوجی ڈھانچے کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے شروع کیے۔
اسرائیلی حملوں میں شام کے دفاعی مراکز، فوجی تنصیبات اور جنگی طیاروں سمیت متعدد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی شام میں اپنی زمینی سرگرمیوں کا دائرہ بھی وسیع کیا۔
ان کارروائیوں کے دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی شام کے بعض علاقوں میں پیش قدمی کی اور جبل الشیخ جیسے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ قنیطرہ اور مقبوضہ جولان سے ملحقہ علاقوں میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی اور فوجی نقل و حرکت نے شام کے جنوبی محاذ پر کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ